خدا سے، عشق سے

خدا سے، عشق سے، خود سے منافقت کروں گا
ترے لئے میں تری ہی مخالفت کروں گا

جنوں میں جس کا سکوں دربدر کیا میں نے
ملا وہ دشت تو میں اُس سے معذرت کروں گا

میں کیا کروں کہ سکھایا ہے مجھ کو وحشت نے
غلط جنوں بھی ہوا تو مداخلت کروں گا

ضرورتوں کے تعلق پہ اب بھروسہ نہیں
یقیں کروں گا تو اپنی ہی معرفت کروں گا

جدا ہوا ہے جو مجھ سے وہ شاذ میں ہی تھا
سو اپنے آپ سے اپنی ہی تعزیت کروں گا

شجاع شاذ

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا