خدا کا شکر، سہارے بغیر بیت گئی​

خدا کا شکر، سہارے بغیر بیت گئی​
ہماری عمر تمھارے بغیر بیت گئی​

ہوئی نہ شمع فروزاں کوئی اندھیرے میں​
شبِ فراق ستارے بغیر بیت گئی​

وہ زندگی جو گزارے نہیں گزرتی تھی​
تیرے طفیل گزارے بغیر بیت گئی​

شعور، تیز رہی زندگی کی دوڑ اتنی​
کہ ہار جیت شمارے بغیر بیت گئی​

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا