خود سے اکثر سوال کرتا ہوں

خود سے اکثر سوال کرتا ہوں
اِس اُداسی میں کب سے رہتا ہوں

بات کرتا ہے شام سے دریا
میں اُسے دیکھ کر گزرتا ہوں

یہ مسرت، بڑی مسرت ہے
میں تمہیں چھو کے دیکھ سکتا ہوں

بات مجھ سے کِیا وہ کرتی ہے
نظمیں دیوار سے مَیں سنتا ہوں

دن نکلتا ہے میرے سینے سے
اور میں رات میں اترتا ہوں

سید کامی شاہ

Related posts

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا