کچھ جو انہیں مجھ سے

کچھ جو انہیں مجھ سے حجاب آ گیا

میری اُمیدوں پہ شباب آ گیا

آ گئی ہونٹوں پہ جنوں کی ہنسی

جب کوئی باحالِ خراب آ گیا

تیز خرامیِ محبت نہ پوچھ

آنکھ جھپکتے ہی شباب آ گیا

عشق کی بے گانہ روی کے نثار

حسن کو اندازِ عتاب آ گیا

اُٹھنے لگی پھر وہ نظر مست مست

دور پھر جامِ شراب آ گیا

دیکھئے تقدیر کا لکھا شکیل

لیجئے وہ خط کا جواب آ گیا

 

شکیلؔ بدایونی

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا