کھلنے لگے اس دل میں گلاب اور زیادہ

کھلنے لگے اس دل میں گلاب اور زیادہ
آتے ہیں مجھے تیرے ہی خواب اور زیادہ

میں نے تو محبت سے نوازا ہے سبھی کو
دنیا نے دئیے مجھ کو عذاب اور زیادہ

امکان ہے جل جائے نہ اب میرا مکاں بھی
گرتے ہیں زمیں پر یہ شہاب اور زیادہ

پھوٹے نہ کہیں دل سے کوئی خون کا دھارا
بپھرا ہے مرے دل کا چناب اور زیادہ

اک بار جو نفرت کا لیا نام کسی نے
میں نے پڑھے الفت کے نصاب اور زیادہ

میں نے تو کبھی درد سے شکوہ نہ کیا تھا
لیتا رہا کیوں درد حساب اور زیادہ

اس پیاس کو کیسے بھلا سمجھاؤں میں رانی
صحرا نے دکھانے ہیں سراب اور زیادہ

روبینہ صدیق رانیؔ

Related posts

امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

درد کی سرحد سے دل بھی