خیال سود احساس زیاں تک ساتھ دیتا ہے

خیال سود احساس زیاں تک ساتھ دیتا ہے
یقیں کتنا ہی پختہ ہو گماں تک ساتھ دیتا ہے

بدلتے جا رہے ہیں دمبدم حالات دنیا کے
تمہارا غم بھی اب دیکھیں کہاں تک ساتھ دیتا ہے

خیال ناخدا پھر بھی مسلط ہے زمانے پر
کہاں کوئی بھلا سیل رواں تک ساتھ دیتا ہے

زمانے کی حقیقت خود بخود کھُل جائے گی باقیؔ
چلا چل تو بھی وہ تیرا جہاں تک ساتھ دیتا ہے

باقی صدیقی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے