خواہش ہے آئینے پہ تجھے آئینہ کروں

خواہش ہے آئینے پہ تجھے آئینہ کروں
پر , حُسنِ بے بہا تری عجلت کا کیا کروں

بیکار ہو چکا ہوں ترے ہجر کے طفیل
اب تجھ کو انتظار میں کیا مبتلا کروں

کاغذ کی ایک ناؤ بناؤں اور اس کے بعد
دریا پہ اپنا غیض و غضب رونما کروں

پہلے تجھے ملاؤں کسی خواب زار سے
پھر صبح کی دلیل پہ آنکھیں فنا کروں

کچھ دیر بولنے کا اگر اہتمام ہو
میں لفظ کو لکیر کا بھی مدعا کروں

ارشاد نیازی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی