خواب سہانے بیچ رہی ہوں

خواب سہانے بیچ رہی ہوں
گیت پرانے بیچ رہی ہوں

ٹوٹی آس امید کے ٹکڑے
دو دو آنے بیچ رہی ہوں

غزلوں کا بیوپار کیا ہے
اور کچھ گانے بیچ رہی ہوں

میں ہوں مالک بس اک پل کی
اور زمانے بیچ رہی ہوں

کوئی میری آنکھیں لے لے
یہ میخانے بیچ رہی ہوں

میرے اپنے ہاتھ ہیں ٹھٹھرے
اور دستانے بیچ رہی ہوں

خوشیوں کے بازار میں عنبر
اشک خزانے بیچ رہی ہوں

فرحانہ عنبر

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا