خواب و خیال

رولر کوسٹر کی رفتار تھم گئی، میں نے آہ بھر کر کہا،
"دنیا کی سب سے خوفناک سواری؟ ہاں، یہ تو صرف افسانہ ہے،”

پیچھے سے سنائی دی چیخیں، دل میں ایک جست بھری،
حیرت سے پلٹا، دیکھا تو میرا جسم بندھا ہوا تھا، بے قرار ہے۔

زندگی کی خوشیاں ہیں کتنی، سب مسکراہٹوں میں چھپی،
پر موت کی گونج سنائی دی، دل کو اک سناٹا دے گئی۔

یہی ہے حقیقت کی دنیا، خوف کی ایک عجیب کہانی،
رولر کوسٹر کے سفر میں، میں نے کھو دیا اپنا سایہ، اپنی جوانی

شاکرہ نندنی

Related posts

ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

میں نے سوچا ہے تمہیں