​خواب کے گاؤں میں پلے ہیں ہم​

​خواب کے گاؤں میں پلے ہیں ہم​
پانی چَھلنی میں لے چلے ہیں ہم​
​
چھاچھ پھونکیں کہ اپنے بچپن میں​
دودھ سے کس طرح جلے ہیں ہم​
​
خود ہیں اپنے سفر کی دشواری​
اپنے پیروں کے آبلے ہیں ہم​
​
تُو تَو مت کہہ ہمیں بُرا دنیا​
تُو نے ڈھالا ہے اور ڈھلے ہیں ہم​
​
کیوں ہیں، کب تک ہیں، کس کی خاطر ہیں​
بڑے سنجیدہ مسئلے ہیں ہم​
​
جاوید اختر​

Related posts

ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

میں نے سوچا ہے تمہیں