خانہ آبادی

خانہ آبادی

ایک دوست کی شادی پر

ترانے گونج اٹھے ہیں فضا میں شادیانوں کے
ہوا ہے عطر آگیں ذرّہ ذرّہ مسکراتا ہے

مگر دور ایک افسردہ مکاں میں سرد بستر پر
کوئی دل ہے کہ ہر آہٹ پہ یوں ہی چونک جاتا ہے

مری آنکھوں میں آنسو آ گئے نادیدہ آنکھوں کے
مرے دل میں کوئی غمگین نغمہ سرسراتا ہے

یہ رسمِ انقطاعِ عہدِ الفت، یہ حیاتِ نو
محبت رو رہی ہے اور تمدن مسکراتا ہے

یہ شادی خانہ آبادی ہو میرے محترم بھائی
مبارک کہہ نہیں سکتا مرا دل کانپ جاتا ہے

ساحر لدھیانوی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی