خام ہونے کے انتظار میں ہوں

خام ہونے کے انتظار میں ہوں

عام ہونے کے انتظار میں ہوں

میں جسے کام ہی نہیں کوئی

کام ہونے کے انتظار میں ہوں

رکھ کے شیشہ و جام سامنے میں

شام ہونے کے انتظار میں ہوں

اپنی گمنام حسرتوں میں وفاؔ

نام ہونے کے انتظار میں ہوں

 

مقصود وفا

Related posts

میں مقتول قاتل ہوں

نوحہ ایک دھرتی کا

اسیرِ بے زباں