کھا کے سوکھی روٹیاں

کھا کے سوکھی روٹیاں پانی کے ساتھ
جی رہا تھا کتنی آسانی کے ساتھ

یوں بھی منظر کو نیا کرتا ہوں میں
دیکھتا ہوں اس کو حیرانی کے ساتھ

گھر میں اک تصویر جنگل کی بھی ہے
رابطہ رہتا ہے ویرانی کے ساتھ

آنکھ کی تہ میں کوئی صحرا نہ ہو
آ رہی ہے ریت بھی پانی کے ساتھ

زندگی کا مسئلہ کچھ اور ہے
شعر کہہ لیتا ہوں آسانی کے ساتھ

عباس تابش

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

1 تبصرہ

طارق اقبال حاوی اپریل 29, 2020 - 9:55 صبح
بہترین انتخاب
Add Comment