کیفی ہو کیوں تو ناز سے پھر گرم رہ ہوا

کیفی ہو کیوں تو ناز سے پھر گرم رہ ہوا
برسوں سے صوفیوں کا مصلیٰ تو تہ ہوا

معلوم تیرے چہرئہ پرنور کا سا لطف
بالفرض آسماں پہ گیا پھول مہ ہوا

پوچھ اس سے درد ہجر کو جس کا بہ نازکی
جاگہ سے اپنے عضو کوئی بے جگہ ہوا

ہم پلہ اپنا کون ہے اس معرکے کے بیچ
کس کے ترازو یار کا تیر نگہ ہوا

ایسا فقیر ہونا بھلا کیا ضرور تھا
دونوں جہاں میں میر عبث رو سیہ ہوا

میر تقی میر

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان