کیا کہیں کچھ کہا نہیں جاتا

کیا کہیں کچھ کہا نہیں جاتا
اب تو چپ بھی رہا نہیں جاتا

غم میں جاتی ہے عمر دہ روزہ
اپنے ہاں سے دہا نہیں جاتا

طاقت دل تلک تعب کھینچے
اب ستم ٹک سہا نہیں جاتا

اس در تر کا حیرتی ہے بحر
تب تو اس سے بہا نہیں جاتا

کب تری رہ میں میر گرد آلود
لوہو میں آ نہا نہیں جاتا

میر تقی میر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی