کشتی اُلٹتا، موجِ مہ و سال کھینچتا

کشتی اُلٹتا، موجِ مہ و سال کھینچتا
لے ہی گیا نہنگ مِرا جال کھینچتا!

یہ کیا کہ صرف داغ دیا سیخِ ہجر سے!
آنکھیں نکالتا! وہ مِری کھال کھینچتا!

لایا پکڑ کے محفلِ ہستی سے مجھ کو، دُکھ
تھپڑ لگاتا اور کبھی بال کھینچتا

بیٹھے بٹھائے آ گیا رفتہ کی میز پر
مَیں ریگِ دل پہ نقشۂ احوال کھینچتا

لپٹی ہوئی تھی جسم سے بھی بڑھ کے رُوح سے
شانے سے میرے، کون تری شال کھینچتا!

پل بھر میں جھڑ گیا ہے مِرا ایک ایک پات
گُزرا ہے ایسے موجہء غم، ڈال کھینچتا

پتّھر پہ جا گرا ہوں مَیں اپنے ہی زور سے
آئینے کی گرفت سے تمثال کھینچتا

سعید شارق

Related posts

زمیں کی بات کرتے ہیں

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

مرد کے حصے کا ہجر