کاشکے دل دو تو ہوتے عشق میں

کاشکے دل دو تو ہوتے عشق میں
ایک رہتا ایک کھوتے عشق میں

پاس ظاہر ٹک نہ کرتے شب تو ہم
بھر رہے تھے خوب روتے عشق میں

خواب میں دیکھا اسی کو ایک رات
برسوں کاٹے ہم نے سوتے عشق میں

کاش پی جایا ہی کرتے اشک کو
داغ دل پر کے تو دھوتے عشق میں

دیکھے ہیں کیا کیا ڈھلکتے اشک میر
بیٹھے موتی سے پروتے عشق میں

میر تقی میر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی