کہیں جواب کہیں پر دلیل جھوٹی ہے

کہیں جواب کہیں پر دلیل جھوٹی ہے
مگر ہماری وضاحت فقط خموشی ہے

ہوا کی سمت پہ الزام رکھ دیا ورنہ
مہک کی راہ میں حائل وہ ایک کھڑکی ہے

پکار برف کے اندر حنوط ہو بھی چکی
مگر وہ گونج ابھی پربتوں میں باقی ہے

کسی کی عرضیاں سننے سے کیا غرض تجھکو
یہ بے نیازی تری پتھروں کے جیسی ہے

مجال ہے کہ کبھی چھوڑ دے اکیلا ہمیں
ہمارے ساتھ ہماری اداسی رہتی ہے

میں مرنے لگتی ہوں لیکن تری صدا پھر سے
رکی رکی مری دھڑکن بحال کرتی ہے

شہلا خان

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا