کہیں ایسا نہ ہو دامن جلا لو

کہیں ایسا نہ ہو دامن جلا لو
ہمارے آنسوؤں پر خاک ڈالو

منانا ہی ضروری ہے تو پھر تم
ہمیں سب سے خفا ہو کر منالو

بہت روئی ہوئی لگتی ہیں آنکھیں
مری خاطر ذرا کاجل لگا لو

اکیلے پن سے خوف آتا ہے مجھ کو
کہاں ہو اے میرے خوابو خیالو

بہت مایوس بیٹھا ہوں میں تم سے
کبھی آ کر مجھے حیرت میں ڈالو

لیاقت علی عاصم

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے