کہانی اِس لئے آگے نہ بڑھ سکی میری

کہانی اِس لئے آگے نہ بڑھ سکی میری
مَیں زندگی کا مخالف تھا، زندگی میری

جٌڑا ہوا ہے مِرا وقت۔۔۔تیرے وقت کے ساتھ
بندھی ہوئی ہے تِرے ہاتھ پر گھڑی میری

نظر پڑی کِسی تصویر پر۔۔۔۔۔تو یاد آیا
بہت عزیز تھی اِک شخص کو ہنسی میری

تمھارے بعد مِرے ساتھ کون بیٹھے گا
نہ جانے کون کرے گا برابری میری

بہار نے اٌسے پھولوں کے ہار پہنائے
خِزاں نے یاد دلائی اٌسے کمی میری

عابِد ملِک

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان