کہا ہے تجھ سے بارہا وجودیت

کہا ہے تجھ سے بارہا وجودیت
غیاب ہیں، ہمیں بنا وجودیت

بہت غرور تھا کہ بے مہار ہیں
"پھر اس نے دفعتاً کہا "وجودیت

کسی بھی حرفِ نے کی تیرے جسم پر
ہے چوٹ تو ہمیں دکھا وجودیت

خیال کے خلاف تیرے قلب میں
جو بات ہے وہ لب پہ لا وجودیت

ازل سرا کو جا رہا ہوں الوداع
معاف ہو کہا سنا وجودیت

جو "ہے” سے اور "نہیں” سے بے نیاز ہیں
اب ان کو کیا وجود کیا وجودیت

نوشتہ ء ابد کے سب نکات میں
لکھا ہوا ہے لفظِ لاوجودیت

سرشت پہ تقابلی مباحثہ
یہیں پہ ہو رہا ہے آ وجودیت

ماہ نور رانا

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا