کبھی وہ خواب، کبھی ہاتھ

کبھی وہ خواب، کبھی ہاتھ کا ستارہ ہُوا
وہ اجنبی تھا مگر پھر بھی وہ ہمارا ہُوا
وہ زعفرانی بدن، سطوتِ جمالِ جہاں
ہمارا عِشق ہُوا، دل کا استعارہ ہُوا
تُجھے چُھوا تو مِرے ہاتھ پُھول بنتے گٸے
میں سَر تا پا تیری خُوشبو سے تھا نِکھارا ہُوا
وہ اِک صحیفے کی صُورت حسیں بدن تھا جو
فلک سے میرے لٸے، مُجھ پہ تھا اُتارا ہُوا
نسیمِ جاں نے بہت حوصلے دیے مُجھ کو
وگرنہ میں تھا محبت کا کھیل ہارا ہُوا
مِرے وجود میں کُھلتے گٸے کٸ منظر
وہ حُسن جب سے مِری آنکھ کا نظارہ ہُوا
درِ جہانِ وفا کُھل ہی جاۓ گا محبوب
تِری طرف سے مُجھے جب کبھی اِشارہ ہُوا

محبوب صابر

Related posts

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا