کبھی نہ لٙوٹ کے آنے کی بات کرتے ہوئے

کبھی نہ لٙوٹ کے آنے کی بات کرتے ہوئے
رُکا ہُوا تھا وہ جانے کی بات کرتے ہوئے

گِرا زمیں پہ وہ ایسا ، کہ پھر اُٹھا نہ گیا
کسی کا بوجھ اُٹھانے کی بات کرتے ہوئے

کسی کے دل کی تمنّا کا خُون کر بیٹھا
کسی کی جان بچانے کی بات کرتے ہوئے

کسی کا ذِکر ہُوا بار بار محفِل میں
کسی کو دِل سے بھُلانے کی بات کرتے ہوئے

کسی نے اپنی ہی سانسوں کا ساتھ چھوڑ دِیا
کسی کا ساتھ نِبھانے کی بات کرتے ہوئے

پُرانے گھر کے تصوُّر سے آنکھ بھر آئی
نیا مکان بنانے کی بات کرتے ہوئے

وہ اپنا حال سُناتے ہی رو دِیا کیفی
جو ہنس رہا تھا زمانے کی بات کرتے ہوئے

(شاعر : محمود کیفی)

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی