کبھی بدلی سجیلی دھوپ کو آ کر بھگوتی ہے

کبھی بدلی سجیلی دھوپ کو آ کر بھگوتی ہے
کبھی پروائی یادوں میں حسیں موتی پروتی ہے
انھیں زینوں پہ چڑھتے پہلے کیسی کھنکھناتی تھی
نگوڑی پائل اب جو پاؤں میں کانٹے چبھوتی ہے
بچھڑتے وقت اندازہ نہ تھا اتنی خزاؤں کا
نہ جانے سادہ دل لڑکی ابھی کیا اور کھوتی ہے
اسے چھم چھم برستی رت نے کل کیا بات کہہ دی ہے
سبک ندیا جو اب تک سینہ کوبی کر کے روتی ہے
گزرتی ہے بڑے آرام سے اب جاگتے نیناں
یہ مجھ پر کھل گیا جب سے مری تقدیر سوتی ہے

فرزانہ نیناں

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی