مر چلے ہم مر کے اُس پر مر چلے

مر چلے ہم مر کے اُس پر مر چلے
کام اپنا، نام اُس کا کر چلے

حشر میں اجلاس کس کا ہے کہ آج
لے کے سب اعمال کا دفتر چلے

خُونِ ناحق کر کے اِک بے جُرم کا
ہاتھ ناحق خُون میں تم بھر چلے

یہ ملی کس جُرم پر دم کو سزا؟
حُکم ہے دن بھر چلے شب بھر چلے

شیخ نے میخانے میں پی یا نہ پی
دخترِ رز کو تو رُسوا کر چلے

رہنے کیا دنیا میں آئے تھے امیر
سیر کر لی اور اپنے گھر چلے

امیر مینائی

Related posts

میں مقتول قاتل ہوں

نوحہ ایک دھرتی کا

اسیرِ بے زباں