جنوں تبدیلی موسم کا

جنوں تبدیلی موسم کا تقریروں کی حد تک ہے

یہاں جو کچھ نظر آتا ہے تصویروں کی حد تک ہے

غبار آثار کرتی ہے مسافر کو سبک گامی

طلسم منزل ہستی تو رہ گیروں کی حد تک ہے

زمانے تو نے غم کو بھی نمائش کر دیا آخر

نشاط گریہ و ماتم بھی زنجیروں کی حد تک ہے

 

سلیم کوثر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی