جنوں تبدیلی موسم کا

جنوں تبدیلی موسم کا تقریروں کی حد تک ہے

یہاں جو کچھ نظر آتا ہے تصویروں کی حد تک ہے

غبار آثار کرتی ہے مسافر کو سبک گامی

طلسم منزل ہستی تو رہ گیروں کی حد تک ہے

زمانے تو نے غم کو بھی نمائش کر دیا آخر

نشاط گریہ و ماتم بھی زنجیروں کی حد تک ہے

 

سلیم کوثر

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی