جُگنُو

جب سورج اپنی کرنو ں کی
چادر کو سمیٹے
دور افق کے پار کہیں چُھپ جاتا ہے
اور چاند ستارے
آوارہ بادل کے ٹکڑوں کے ہمراہ
جب آنکھ مچولی کھیلتے ہیں
تب دل کے گھور اندھیروں میں
کہیں دور کسی گہرائی میں
تری یادوں کے ننھے جُگنُو
مرے دل کے اس اندھیارے کو
اُجلانے کی کوشش کرتے ہیں —- !

سعید سعدی

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا