جدائی کا فسانہ ہے محبت کی کہانی ہے

جدائی کا فسانہ ہے محبت کی کہانی ہے
نہ اُس نے بات مانی ہے نہ میں نے ہار مانی ہے

کسی تلوار کی زد پر تو ہم دونوں ہی آئے ہیں
تجھے پہلو بچانا ہے مجھے پگڑی بچانی ہے

کھڑے ہیں ایک مدت سے جدائی کے کٹہرے میں
اُدھر سے کج ادائی ہے اِدھر سے بدگمانی ہے

ارادے باندھ کر نکلاہوُں میں تعمیر کے لیکن
کہیں ٹوٹا ہوا دل ہے کہیں مسجد پرانی ہے

عجب بے چہرگی کی دُھند ہے چاروں طرف شاہد
کسی آسیب کی بستی پہ گویا حکمرانی ہے

افتخار شاہد

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا