جو وفادار نہیں ہو سکتا

جو بھی کرتا ہے محبت تجھ سے
وہ سمجھدار نہیں ہو سکتا

خود کو دفتر میں یہ سمجھاتے ہیں
روز اتوار نہیں ہو سکتا

بے وفاؤں سے تعلق رکھنا
میرا معیار نہیں ہو سکتا

عشق میں ہوتا ہے مجرم وہ شخص
جو گرفتار نہیں ہو سکتا

عشق میں ہوتی ہے دشواری پر
عشق دشوار نہیں ہو سکتا

دل سے ہوتی ہیں خطائیں لیکن
دل گنہ گار نہیں ہو سکتا

عشق بھی کر نہ سکے کوئی شخص
اتنا بے کار نہیں ہو سکتا

سپنا مولچندانی

Related posts

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا