جو اُس نے غم لکھے سارے

جو اُس نے غم لکھے سارے
مجھے ناصر ملے سارے

اگر وہ لوٹنا چاہے
کھلے ہیں راستے سارے

کتابِ عشق پڑھ تو لے
لکھے ہیں ضابطے سارے

مٹا دے گی کسی بھی دن
محبت فاصلے سارے

جہاں میں ہوں وہاں پر ہی
رکیں گے قافلے سارے

شروعاتِ فسوں کے دُکھ
ادھورے ہی رہے سارے

سرِ محفل چراغِ دل
مرے ہاتھوں جلے سارے

 

ناصر ملک

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا