جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیں

جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیں
وہی دنیا بدلتے جا رہے ہیں

نکھرتا آ رہا ہے رنگ گلشن
خس و خاشاک جلتے جا رہے ہیں

وہیں میں خاک اڑتی دیکھتا ہوں
جہاں چشمے ابلتے جا رہے ہیں

چراغ دیر و کعبہ اللہ اللہ
ہوا کی ضد پہ جلتے جا رہے ہیں

شباب و حسن میں بحث آ پڑی ہے
نئے پہلو نکلتے جا رہے ہیں

جگر مراد آبادی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی