جو سیر انجم و خورشید کا ارادہ کیا

جو سیر انجم و خورشید کا ارادہ کیا

غبار رخت سفر اور جنون جادہ کیا

بہت سے کام کیے ہیں تری طلب میں مگر

یہ کار درد ضرورت سے کچھ زیادہ کیا

فضائے ہوش و خرد میں بڑا اندھیرا تھا

سو ہم نے آنکھ میں روشن چراغ بادہ کیا

بڑھا جو غم کسی لمحے تری جدائی کا

تو ہم نے جاں کے زیاں سے بھی استفادہ کیا

وہ رنگ حسن بھی سادہ تھا سامنے اپنے

سو حرف عرض تمنا بھی ہم نے سادہ کیا

 

مقصود وفا

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان