جو روشن ھے

جو روشن ھے وھی دکھتا نہیں ھے
ھمارے ساتھ کیا ایسا نہیں ھے

سراپا آئینہ ھو زات جس کی
مقابل آئینہ رکھتا نہیں ھے

مسلسل تیرگی بڑھنے لگی ھے
کہیں بھی راستہ ملتا نہیں ھے

جو دنیا کے لیئے راہ ہدایت
اسے اب تک کوئی سمجھا نہیں ھے

نجانے کیوں تعجب ھو رھا ھے
وہ جیسا تھا کبھی ویسا نہیں ھے

ھمارے درمیاں رہ کر بھی انجم
ھمارے درمیاں رھتا نہیں ھے

غنی الرحمٰن انجم

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا