جو اِتنے قریب ہیں اِس دل سے


جو اِتنے قریب ہیں اِس دل سے، وہ دُور ہوئے تو کیا ہوگا ​
ہم اُن سے بِچھڑ کر جینے پر مجبُور ہوئے تو کیا ہوگا​

ہم اُن کی محبت پانے کو ہر بات گوارا تو کرلیں​
اِن باتوں سے وہ اور اگر مغرُور ہوئے تو، کیا ہوگا ؟​

شیشے سے بھی نازک خواب ہیں جو راتوں نے سجائے ہیں لیکن​
یہ دن کی چٹانوں پر گِر کے جب چُور ہوئے تو کیا ہوگا​

دُنیا جو کہے گی تم کو بُرا، ہم کو نہ لگے گا یہ اچھا​
سوچو کہ تمہارے ہم پہ سِتم مشہور ہوئے تو کیا ہوگا ​

جاوید اختر

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان