جو حرص میں پڑے ہیں

جو حرص میں پڑے ہیں خسارہ اٹھائیں گے
ہم کہکشاں سے ایک ستارہ اٹھائیں گے

ہم کو بتائیں کس پہ کھلا ہے در حیات
ورنہ یہی سوال دوبارہ اٹھائیں گے

ہم اہل عشق لائیں گے نیلام گھر سے پھول
کوزہ گروں کو دیکھنا گارا اٹھائیں گے

لے آؤ اپنے سرد رویے کی گٹھڑیاں
ممکن ہوا تو بوجھ یہ سارا اٹھائیں گے

بیٹھے ہیں یہ جو تاک میں اک روز دیکھنا
پھینکا ہوا خیال ہمارا اٹھائیں گے

کومل جوئیہ

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے