جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں اچھے لگتے ہیں
وگرنہ ذہن میں خدشے ہزاروں اٹھنے لگتے ہیں

جنم لیتا ہے ڈر باہر کی دنیا کا مکینوں میں
تو پھر دیوار کے اوپر نکیلے شیشے لگتے ہیں

تعلق بار ہو جائے تو دنیا باتیں کرتی ہے
تلہ گھس جائے جوتے کا تو کنکر چبھنے لگتے ہیں

محبت میں کسی کا مبتلا ہونا یوں کھلتا ہے
گلابی رنگ کے پھر کھڑکیوں پر پردے لگتے ہیں

کہیں اسکول کھلتا ہے نہ پل بنتا ہے دریا پر
اگرچہ ہر برس ان کے یہاں تخمینے لگتے ہیں

ادھر سے موت گزری ہو، نشاں ایسے نہیں ملتے
یہاں کے لوگ ہم کو زندگی کے مارے لگتے ہیں

فصیح اس بات پر ہم متفق ہیں ساری دنیا سے
زباں کی تیغ کے گھاؤ زیادہ گہرے لگتے ہیں

شاہین فصیح ربانی

Related posts

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا