جتنی دعائیں آتی تھیں

جتنی دعائیں آتی تھیں
سب مانگ لیں ہم نے
جتنے وظیفے یاد تھے سارے
کر بیٹھے ہیں
کئی طرح سے جی کر دیکھا ہے
کئی طرح سے مر بیٹھے ہیں
لیکن جاناں
کسی بھی صورت
تم میرے ہو کر نہیں دیتے

وصی شاہ

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان