جس ایک پل میں جدا ہو گیا تھا تو مجھ سے

جس ایک پل میں جدا ہو گیا تھا تو مجھ سے
وہ ایک لمحہ گزارا ہے کتنے سالوں میں

گمان کیا کیا تری لکنت زبان سے ہے
جواب ڈھونڈ رہا ہوں ترےسوالوں میں

میں اپنی ذات کا ادراک تجھ سے جاہتا ہوں
تلاش کرتا ہوں خود کو ترے حوالوں میں

وہ خال و خد تیرے مجھ پر عیاں ہوئے ہیں کہ بس
میں کھو گیا ہوں گئے وقت کی مثالوں میں

وہ درد دل ہے کہ ضعف بدن کے ہوتے ہوئے
کوئی زمیں پہ گرے تو اسے سنبھالوں میں

سید عدید

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا