جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
وہ بھلا چاند ستاروں کو کہاں دیکھتے ہیں
یوں مری آنکھ میں ٹھہرا ہے سراپا تیرا
جیسے اوقات سے بڑے، لوگ خواب دیکھتے ہیں
تیری چاہت نے عجب رنگ دیا ہے دل کو
لوگ آئینہ، ہم آئینے میں تجھے دیکھتے ہیں
لوگ کہتے ہیں کہ مہتاب حسیں ہے کتنا
ہم تجھے دیکھ لیں تو چاند کہاں دیکھتے ہیں
زندگی کی الجھن کچھ یوں بھی سلجھ جاتی ہے
تیرے ہمراہ جو ہم آج سے کل دیکھتے ہیں
حسنؔ اشعار میں تصویر بناتا ہے تری
لوگ ہر شعر میں اک عکس ترا دیکھتے ہیں
میر حسن
2 تبصرے