جُھومتی ، دف بجاتی ، گاتی موت

جُھومتی ، دف بجاتی ، گاتی موت
لمحہ لمحہ قریب آتی موت

خُلد سے فرش پر گِرے سو گِرے
ساتھ بھیجی گئی حیاتی ، موت

خلق نالاں تھی اس طبیعی پر
پھر ملی کچھ کو حادثاتی موت

خود فریبی کا نام جو بھی رکھو
زندگی ہے تو جینیاتی موت

کیا بتاؤں کہ گام گام یہاں
سہنا پڑتی ہے نظریاتی موت

وقت پیہم ہتھوڑا چلتا ہوا !
اپنی چکّی الگ گُھماتی موت

سب طرفدار میرے کھوئے گئے
ایسی دشمن ہے میری ذاتی موت

صائمہ آفتاب

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

1 تبصرہ

Neelam Malik مئی 23, 2020 - 6:59 شام
عمدگی سے حالتِ حال کی عکاسی کرتی غزل
Add Comment