جیسے جیسے کر رہا ہوں عمرِ رفتہ کا حساب

جیسے جیسے کر رہا ہوں عمرِ رفتہ کا حساب
ویسے ویسے اٹھ رہا ہے موجِ خوں میں اضطراب

تیرگی کے قہر سے جس وقت آزادی ملی
دیر تک چھایا رہا مجھ پر اُجالوں کا عذاب

راستوں کی دھول سے رکھنی پڑی ہے رسم و راہ
کب تلک کرتا میں آخر فاصلوں سے اجتناب

مصحفِ دل میں لکھی ہے وحشتوں کی داستاں
جانے کس کے نام لکّھا جائے گا اب انتساب

ایک ریلا سا چلا آیا سوالوں کا نبیلؔ
چھپ گئے جا کر بہت اونچے مچانوں پر جواب

عزیز نبیل

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان