جمع تم ہو نہیں سکتے

جمع تم ہو نہیں سکتے
ہمیں منفی سے نفرت ہے

تمہیں تقسیم کرتے ہیں
تو حاصل کچھ نہیں آتا

کوئی قائدہ کوئی کُلیہ
نہ لاگُو تجھ پے ہو پائے

ضرب تجھ کو اگر دوِ تو
حسابوں میں خلل آئے

اکائی کو دھائی پر
میں نسبت دوں تو کیسے دوں

نہ الجبرا سے لگتے ہو
نہ ہو ڈگری نکل آئے

عُمر یہ کٹ گئی میری
تجھے ہمدم سمجھنے میں

جو حل تیرا اگر نکلے
تو سب کچھ ہی اُلجھ جائے

صفر تھی ابتداء میری صفر ہی اب تلک تم ہو
صفر ضربِ صفر ہو تم نہ جس سے کچھ فرق آئے

وصی شاہ

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی