جہانِ عیش و طرب غلط تھا

جہانِ عیش و طرب غلط تھا
ہمارا جینے کا ڈھب غلط تھا

وہ دستِ قاتل تھا حق بجانب
جو شخص تھا جاں بلب غلط تھا

پڑھا تھا ہم نے نصاب میں جو
یہ اب کھلا ہے کہ سب غلط تھا

تمھاری باتوں پہ سوچتا ہوں
میں اب غلط ہوں کہ تب غلط تھا

اگرچہ فطری تھا پھر بھی سعدی
ہمارا غیظ و غضب غلط تھا

سعید سعدی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی