جفائیں بخش کے مجھ کو مری وفا مانگیں

جفائیں بخش کے مجھ کو مری وفا مانگیں
وہ میرے قتل کا مجھ ہی سے خوں بہا مانگیں

یہ دل ہمارے لیے جس نے رت جگے کاٹے
اب اس سے بڑھ کے کوئی دوست تجھ سے کیا مانگیں

وہی بجھاتے ہیں پھونکوں سے چاند تاروں کو
کہ جن کی شب کے اجالوں کی ہم دعا مانگیں

فضائیں چپ ہیں کچھ ایسی کہ درد بولتا ہے
بدن کے شور میں کس کو پکاریں کیا مانگیں

قناعتیں ہمیں لے آئیں ایسی منزل پر
کہ اب صلے کی تمنا نہ ہم جزا مانگیں

خاطر غزنوی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے