جب وہ صہبا سے بہک جاتی ہے

جب وہ صہبا سے بہک جاتی ہے
خود بخود رات مہک جاتی ہے

مجھ کو دیکھے تو محبت کی شفق
اس کے چہرے سے جھلک جاتی ہے

ساتھ جب تک ہے چلے چلتے ہیں
راہ تو دور تلک جاتی ہے

زندگی بھی مری رفتار سے اب
ساتھ چلتے ہوئے تھک جاتی ہے

عشق آنکھوں میں تپکتا ہے سعید
اب کہاں دل سے کسک جاتی ہے

سعید خان

Related posts

ہوائے دشت ہے ماتم گزید چاروں طرف

گئی آوارگی اور نقشِ بام و در پسند آیا

کیا جانئے عاشق ہے کہ محبوب کوئی ہے