جب میں ہنستی ہوں تو میرا قہقہہ باتیں کرے

جب میں ہنستی ہوں تو میرا قہقہہ باتیں کرے
آج کل مجھ سے تو میرا آئینہ باتیں کرے

میں نے سوچا کس طرح تنہا کٹے گا یہ سفر
گھر سے نکلی ہوں تو مجھ سے راستہ باتیں کرے

میں الگ رستے کا کرتی ہوں ہمیشہ انتخاب
کس لئے پھر آج سارا قافلہ باتیں کرے

میں نے دل کی بات مانی شور سا اُٹھنے لگا
من گھڑت رسموں کا ہر اک ضابطہ باتیں کرے

بے دھیانی میں جو پھنکی کنکری تالاب میں
چوٹ پانی کو لگی ہر دائرہ باتیں کرے

میں نے خطروں میں گزارے زندگی کے روز و شب
میرے فکر و عمل میں وہ تجربہ باتیں کرے

قلم اور قرطاس سے تحمینہ رکھا واسطہ
شعر لکھوں تو غزل کا قافیہ باتیں کرے

تہمینہ مرزا

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا