جب جب رات کا آنچل بھیگے

جب جب رات کا آنچل بھیگے
یاد کا سونا جنگل بھیگے

سب کی یخ بستہ بارش میں
سڑکوں پر اک پاگل بھیگے

دکھ کے پیڑ پہ تیرے میرے
نینوں کی اک کوئل بھیگے

رقص گہوں میں چاند ڈھلے تو
درد کی لَے میں پائل بھیگے

کبھی کبھی تو بے موسم بھی
پیاسے صحرا جل تھل بھیگے

عدیم ہاشمی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا