جب ہم تھے جاں بلب تو شفا کی خبر ملی

جب ہم تھے جاں بلب تو شفا کی خبر ملی
مرتے ہوئے گھٹن سے , ہوا کی خبر ملی

میں جس دوا کو وقتِ مقرر پہ کھا گیا
مدت گزر چکی تھی دوا کی , خبر ملی

اس کی یہ بد عا تھی کہ بد قسمتی مری
وقت جزا بھی مجھ کو سزا کی خبر ملی

"میرا ہے جسم اور مری مرضی” زباں پہ تھا
قدرت سے پھر حجاب و ردا کی خبر ملی

اُس کو چھوئے بغیر ہی رخصت کیا گیا
چھونے سے قبل مجھ کو وبا کی خبر ملی

احمد آشنا

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان