جب دُکھ یاد آئے , شعر کہا

جب دُکھ یاد آئے , شعر کہا
کچھ اشک بہائے , شعر کہا

جو خواب تھے میری پلکوں پر
سب آن گرائے , شعر کہا

کچھ بھولے بِسرے افسانے
خود کو جو سنائے , شعر کہا

جب چہروں کو پامال کیا
جب نقش مٹائے , شعر کہا

رستوں کی دھول اڑائی تو
پاؤں گھبرائے , شعر کہا

لوگوں کے تلخ رویّوں نے
جب زخم لگائے , شعر کہا

تقدیر نے اپنوں کے لہجے
انجان بنائے , شعر کہا

ہم نے بھی عشق کی چوکھٹ سے
جب درد اٹھائے , شعر کہا

دل کے آنگن میں یادوں کے
کچھ پیڑ لگائے , شعر کہا

بینائی چھینی آنکھوں سے
اور خواب گنوائے , شعر کہا

منزّہ سیّد

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی