جام ٹکراؤ! وقت نازک ہے

جام ٹکراؤ! وقت نازک ہے

رنگ چھلکاؤ! وقت نازک ہے

حسرتوں کی حسین قبروں پر

پھول برساؤ! وقت نازک ہے

اک فریب اور زندگی کے لیئے

ہاتھ پھیلاؤ! وقت نازک ہے

رنگ اڑنے لگا ہے پھولوں کا

اب تو آ جاؤ! وقت نازک ہے

تشنگی تشنگی ارے توبہ!

زلف لہراؤ ! وقت نازک ہے

بزم ساغر ہے گوش بر آواز

کچھ تو فرماؤ! وقت نازک ہے

ساغر صدیقی

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی